پاکستان کی صنعتی بنیاد — ٹیکسٹائل، سیمنٹ، آٹوموبائل، ہسپتال، ٹرانسپورٹ — 24 گھنٹے چلنے والے نظام پر کھڑی ہے۔ فیصل آباد کی پاور لومز میں 12-12 گھنٹے کی دو شفٹیں معمول ہیں۔ کراچی کے سول ہسپتال میں نرسوں کی شفٹ اکثر 10 سے 14 گھنٹے تک چلتی ہے۔ لاہور کی بس ٹرمینلز پر ڈرائیور صبح 4 بجے سے رات 11 بجے تک روٹ پر ہوتے ہیں۔
گردشی شفٹ کا جسم پر اثر
انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی (Circadian Rhythm) کے مطابق کام کرتا ہے جو روشنی اور اندھیرے سے منظم ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص ہفتے میں صبح کی شفٹ کرے، اگلے ہفتے رات کی، اور تیسرے ہفتے دوپہر کی — تو یہ گھڑی مسلسل بگڑتی رہتی ہے۔
Scientific Reports (2025) میں شائع تحقیق کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں کے ملازمین میں گردشی شفٹوں نے اعتدال پسند تناؤ اور نیند میں خلل پیدا کیا۔ عمر سب سے مضبوط عامل ثابت ہوئی — درمیانی اور بعد کے کیریئر پیشہ ور نوجوان ساتھیوں کے مقابلے نمایاں طور پر زیادہ تناؤ کا شکار تھے۔
ماخذ: Nature Scientific Reportsپاکستانی قانون کیا کہتا ہے
| پہلو | قانونی حد |
|---|---|
| یومیہ کام کے گھنٹے | 9 گھنٹے (زیادہ سے زیادہ) |
| ہفتہ وار کام کے گھنٹے | 48 گھنٹے |
| اوور ٹائم سمیت ہفتہ وار حد | 60 گھنٹے |
| سہ ماہی اوور ٹائم حد | 150 گھنٹے |
| 6 گھنٹے سے زیادہ مسلسل کام پر وقفہ | 1 گھنٹہ لازمی |
| خواتین اور نوعمروں کی رات کی شفٹ | شام 7 سے صبح 6 تک ممنوع |
شفٹ شیڈول بنانے کے عملی اقدامات
1. نیند کا وقت طے کریں — شفٹ سے پہلے
سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ شفٹ ختم ہونے کے بعد نیند کا وقت طے کرتے ہیں۔ اس کے بجائے، پہلے یہ طے کریں کہ آپ کو 6-7 گھنٹے نیند کب ملے گی، پھر باقی سرگرمیاں اس کے گرد ترتیب دیں۔ مثال کے طور پر: اگر رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک شفٹ ہے، تو صبح 7 سے دوپہر 1 بجے تک نیند کا وقت مقرر کریں۔
2. "اینکر سلیپ" کا طریقہ
اینکر سلیپ کا مطلب ہے کہ ہر روز کم از کم 4 گھنٹے ایک ہی وقت میں سوئیں — چاہے شفٹ کوئی بھی ہو۔ اگر آپ صبح 3 سے 7 بجے ہمیشہ سو سکتے ہیں تو یہ آپ کا اینکر ہوگا۔ باقی نیند ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔ یہ طریقہ حیاتیاتی گھڑی کو مکمل طور پر بگڑنے سے روکتا ہے۔
3. شفٹ تبدیلی سے 3 دن پہلے تیاری
اگر آپ کو صبح کی شفٹ سے رات کی شفٹ پر جانا ہے تو تبدیلی سے 2-3 دن پہلے ہر رات 30-45 منٹ دیر سے سوئیں۔ اچانک تبدیلی کے مقابلے بتدریج ایڈجسٹمنٹ جسم پر کم بوجھ ڈالتی ہے۔
فیصل آباد — ٹیکسٹائل ورکر کی مثال
محمد عرفان (38 سال) فیصل آباد کی ایک بڑی ٹیکسٹائل مل میں 15 سال سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی شفٹ ہر دو ہفتے بدلتی ہے — صبح 6 سے شام 6، پھر شام 6 سے صبح 6۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ شفٹ بدلنے کے دن بالکل نہیں سوتے تھے۔ اب وہ تبدیلی سے دو دن پہلے نیند کا وقت آہستہ آہستہ بدلتے ہیں اور صبح 3-7 بجے کی نیند ہر حال میں مقرر رکھتے ہیں۔
خاندانی زندگی اور شفٹ ورک
پاکستان جرنل آف ہیلتھ سائنسز میں شائع تحقیق کے مطابق 89 فیصد لمبی شفٹ نرسوں نے بچوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی کی شکایت کی، جبکہ 91 فیصد نے سماجی زندگی متاثر ہونے کا بتایا۔ خاندانی اوقات بچانے کے لیے:
- ہفتے کے شروع میں ایک مقررہ خاندانی وقت طے کریں — چاہے صرف 45 منٹ ہی ہو
- چھٹی کے دن نیند پوری کریں لیکن پورا دن نہ سوئیں
- فون پر دستیاب رہنے کا ایک مقررہ وقت بتائیں — وقفے کے دوران فون بند نہ کریں
رمضان میں شفٹ ورک
رمضان کے دوران پاکستان میں سرکاری شعبے میں عموماً ایک گھنٹہ کم کام ہوتا ہے۔ لیکن نجی فیکٹریوں اور ہسپتالوں میں یہ رعایت ہمیشہ نہیں ملتی۔ روزے کے دوران نائٹ شفٹ خاص طور پر مشکل ہوتی ہے کیونکہ سحری اور افطاری کے اوقات شفٹ ٹائمنگ سے ٹکرا سکتے ہیں۔ ایسے میں نمازوں اور کھانے کے اوقات کو شیڈول میں واضح طور پر نشان زد کرنا ضروری ہے۔