شفٹ شیڈول کیسے ترتیب دیا جائے — پاکستانی محنت کشوں کے لیے رہنمائی
گردشی شفٹوں کا نظام جسم کی قدرتی گھڑی کو متاثر کرتا ہے۔ کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے شیڈول بنانے کے عملی طریقے۔
سمینٹ فیکٹریوں سے لے کر ہسپتالوں تک — لاکھوں پاکستانی محنت کش ہر روز غیر معمولی اوقات میں کام کرتے ہیں۔ یہاں ان کے لیے کام کے نظام الاوقات، غذائی ترتیب اور آرام کے بارے میں حقائق پر مبنی مواد جمع کیا گیا ہے۔
ہفتہ وار قانونی کام کے گھنٹے
نائٹ شفٹ ڈاکٹروں میں نیند کا عارضہ
لمبی شفٹ نرسوں میں نیند کی کمی
گردشی شفٹوں کا نظام جسم کی قدرتی گھڑی کو متاثر کرتا ہے۔ کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے شیڈول بنانے کے عملی طریقے۔
رات کو کام کرنے والے اکثر صبح 4 بجے پہلا کھانا کھاتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ دن کے وقت کھانا کھانے سے دل کے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
فیکٹریز ایکٹ کے مطابق 6 گھنٹے سے زیادہ مسلسل کام پر ایک گھنٹے کا وقفہ لازمی ہے۔ اوور ٹائم دوگنی اجرت پر ادا ہونا چاہیے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں تقریباً 27 ملین افراد غیر زراعتی شعبوں میں ملازم ہیں، جن میں بڑی تعداد شفٹ پر مبنی کام کرتی ہے۔ ٹیکسٹائل ملز، سیمنٹ فیکٹریاں، ہسپتال اور ٹرانسپورٹ — سب میں 8 سے 12 گھنٹے کی شفٹیں عام ہیں۔
ایسے حالات میں روزمرہ کے معمولات — نیند، کھانا، خاندانی وقت — شدید متاثر ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 91 فیصد لمبی شفٹ نرسوں نے اپنی سماجی زندگی میں خلل کی شکایت کی۔
کراچی کے ترتیری نگہداشت ہسپتالوں میں ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ 93 فیصد نرسوں نے جسمانی صحت پر منفی اثرات محسوس کیے۔ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں میں 59 فیصد کو شفٹ ورک سلیپ ڈس آرڈر (SWSD) کا سامنا ہے، اور ان میں سے 33 فیصد ہلکی علمی کمزوری سے دوچار ہیں۔
Nature جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق، درمیانی عمر اور تجربہ کار ملازمین میں تناؤ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، شفٹ ورکرز کے لیے باقاعدہ آرام اور غذائی ترتیب انتہائی اہم ہے۔