پاکستان میں شفٹ ورکرز کے لیے عملی معلومات

سمینٹ فیکٹریوں سے لے کر ہسپتالوں تک — لاکھوں پاکستانی محنت کش ہر روز غیر معمولی اوقات میں کام کرتے ہیں۔ یہاں ان کے لیے کام کے نظام الاوقات، غذائی ترتیب اور آرام کے بارے میں حقائق پر مبنی مواد جمع کیا گیا ہے۔

شفٹ کے بعد واپس آنے والے محنت کش

48

ہفتہ وار قانونی کام کے گھنٹے

59%

نائٹ شفٹ ڈاکٹروں میں نیند کا عارضہ

88%

لمبی شفٹ نرسوں میں نیند کی کمی

تازہ ترین مضامین

وقت کی ترتیب کا تصوراتی خاکہ

روزمرہ کا شیڈول کیسے مستحکم رکھیں

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں تقریباً 27 ملین افراد غیر زراعتی شعبوں میں ملازم ہیں، جن میں بڑی تعداد شفٹ پر مبنی کام کرتی ہے۔ ٹیکسٹائل ملز، سیمنٹ فیکٹریاں، ہسپتال اور ٹرانسپورٹ — سب میں 8 سے 12 گھنٹے کی شفٹیں عام ہیں۔

ایسے حالات میں روزمرہ کے معمولات — نیند، کھانا، خاندانی وقت — شدید متاثر ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 91 فیصد لمبی شفٹ نرسوں نے اپنی سماجی زندگی میں خلل کی شکایت کی۔

نائٹ شفٹ کے مخصوص اثرات

کراچی کے ترتیری نگہداشت ہسپتالوں میں ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ 93 فیصد نرسوں نے جسمانی صحت پر منفی اثرات محسوس کیے۔ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں میں 59 فیصد کو شفٹ ورک سلیپ ڈس آرڈر (SWSD) کا سامنا ہے، اور ان میں سے 33 فیصد ہلکی علمی کمزوری سے دوچار ہیں۔

Nature جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق، درمیانی عمر اور تجربہ کار ملازمین میں تناؤ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں، شفٹ ورکرز کے لیے باقاعدہ آرام اور غذائی ترتیب انتہائی اہم ہے۔

تھکاوٹ اور نیند کی کمی